یہ کشمیر ہمارا ہے کہنے کے جرم میں کشمیری خاتون پولیس افسر برطرف

سری نگر: مقبوضہ کشمیر کی خاتون اسپیشل پولیس افسر (ایس پی او)  صائمہ اختر کو یہ کشمیر ہمارا ہے کہنے کے جرم میں گرفتار کر کے ملازمت سے برطرف اور اس کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کے تحت مقدمہ درج  کر لیا گیا ہے ۔

خاتون اسپیشل پولیس افسر (ایس پی او)  صائمہ اختر کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ۔ کولگام کی صائمہ اختر کو گزشتہ روز اس وقت  بھارتی فورسز نے گرفتار کیا تھا جب اس نے اپنے گھر پر فورسز کے چھاپے پر احتجاج کیا تھا ۔

بھارتی فوج نے  گزشتہ روز اس کے گھر پر چھاپہ مارا تھا ۔ بھارتی فورسز اہلکاروں کی گھر آمد پر صائمہ کے احتجاج کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے  ۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں خاتون کو چھاپہ مار فوجیوں پر چیختے ہوئے دیکھا گیا:  وہ کہتی ہیں  یہ ہمارا کشمیر ہے۔وہ  فورسز کارروائی پر کہتی ہیں روز روز یہ کیا ہو رہا ہے؟ ہمیں سحری بھی کھانے نہیں دی۔ جوتے سمیت اندر آتے ہو۔ میری ماں بیمار ہے، اگر اسے کچھ ہوا یاد رکھنا۔

پچھلی بار بھی میری ماں اکیلی تھی اور یہ لوگ آئے تھے، کیا کرنے آئے تھے؟ تاہم ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے  ائمہ اختر کو گرفتار کر کے انہیں نوکری سے بر طرف کر دیا ہے۔کے پی آئی کے مطابق   صائمہ کے خلاف پولیس تھانہ یاری پورہ کولگام میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے حوالے سے قانون کی دفعہ 13 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں ان پر عسکریت کی حمایت  کا الزام لگایا گیا ہے۔

ایک پولیس ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 14 اپریل کوفورسز نے ضلع کولگام کے فرصل علاقے کے کریوا محلے کا محاصرہ کر کے تلاشی آپریشن شروع کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ آپریشن کے دوران صائمہ اختر دختر غلام نبی راہ ساکن فرصل نامی خاتون نے تلاشی ٹیم کی کارروائیوں میں رکاوٹیں پیدا کیں۔ تلاشی مہم میں  خلل ڈالنے کے ارادے سے انٹرنیٹ پر لائیو سٹریم کیا۔

مزید پڑھیں: عالمی برادری کشمیریوں کی منظم نسل کشی کی غیرجانبدارتحقیقات کرے:پاکستان

بیان میں کہا گیا ہے کہ افسر نے  تلاشی پارٹی سے مزاحمت کی، پرتشدد ہو گئیں اور دہشت گردوں کے پرتشدد اقدامات کی تعریف کرنے لگیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ افسر کو گرفتار کر کے برطرف کر دیا گیا۔ ان پر بھارت کے انسداد دہشت گردی کے اہم قانون کے تحت فرد جرم عائد کی گئی ہے۔پولیس کا مزید کہنا ہے کہ وہ اس بات کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا اس پولیس افسر کے عسکریت پسندوں سے رابطے تھے۔

Recommended For You

About the Author: admin