کشمیر میں عسکریت کچلنے کے لیے اسرائیل بھارت کو دفاعی ساز و سامان مہیا کر رہا ہے،مغربی نشریاتی ادارہ

نئی دہلی:بھارت نے جموں وکشمیر میں اسرائیلی دفاعی ٹیکنالوجی کے استعمال کے بدلے اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف  قرارداد میں ووٹ نہیں ڈالا۔بھارت  نے مشر ق وسطی بارے پالیسی تبدیل کرتے ہوئے عالمی اداروں میں فلسطین کی حمایت نہ کرنے اور اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کی  پالیسی اپنا لی ہے۔ اسی پالیس کے تحت  27 مئی کو اقوام متحدہ  کی  انسانی حقوق  کونسل میں  غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم کی تفتیش سے متعلق قرارداد میں ووٹ نہیں دیا۔

مغربی نشریاتی ادارے کے مطابق گزشتہ چند برسوں سے عالمی سطح پر  بھارت اسرائیل سے سب سے زیادہ ہتھیار اور دفاعی ٹیکنالوجی خریدتا رہا ہے۔ خاص طور پر بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کو کچلنے کے لیے اسرائیل نے بھارت کو نا صرف دفاعی ساز و سامان مہیا کیا بلکہ وہ بھارتی فورسز کو تربیت بھی  دیتا رہا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے بھارت کو نا صرف سرحد پر رات کی تاریکی میں استعمال ہونے والے چشمے یا نائٹ وژن ڈیوائسز مہیا کیں بلکہ اس نے سرحدی نگرانی کے لیے بھارتی فورسز کی تربیت بھی کی۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھارت کے ایسے پہلے وزیر اعظم ہیں، جنہوں سے اسرائیل کا دورہ کیا اور وہ اکثر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے اپنی دوستی کی قسمیں بھی کھاتے رہتے ہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ جب حال ہی میں نیتن یاہو نے غزہ پر بمباری کی حمایت کے لیے مختلف ممالک کا شکریہ ادا کرنے کے لیے ایک ٹویٹ کی، تو اس میں بھارت کا نام نہیں تھا۔

بھارتی میڈیا میں اس پر بھی کافی چہ مگوئیاں ہوئی تھیں۔اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ اسرائیل کے ساتھ گہری دوستی کے باوجود بھارت نے فلسطینی تنازعے کے دو ریاستی حل کی بھی کھل کر حمایت کی تھی۔ لیکن جب نیتن یاہو نے شکریہ ادا کرنے کے لیے بھارت کے سوا اسرائیل کے حامی باقی تمام ملکوں کے پرچم اپنی ٹویٹ میں شامل کیے، تو بھارت کو صورت حال سمجھ آ گئی تھی اور اس نے آنا فانا اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کا فیصلہ کر لیا تھا

Recommended For You

About the Author: admin