کشمیر میں جعلی مقابلے میں نوجوانوں کے بہیمانہ قتل کی آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ

سری نگر: سری نگر میں جعلی مقابلے میں شہید تین کشمیری نوجوانوں اطہر مشتاق وانی ،زبیر احمد لون اور اعجاز احمد گنائی کی لاشیں دو ماہ بعد بھی لوا حقین کے حوالے نہیں کی گئی ہیں۔

پی آئی  کے مطابق  انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس جموں وکشمیر کے چیئرمین محمد احسن اونتو نے سرینگر میں ایک جعلی مقابلے میں شہید ہونے والے تین کشمیری نوجوانوں کے اہلخانہ سے ملاقات کے بعد عالمی عدالت انصاف ، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں پر زوردیا کہ وہ جعلی مقابلے میں نوجوانوں کے بہیمانہ قتل کی آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات کیلئے بھارت پر دبائو ڈالیں۔بھارتی فوجیوں نے گزشتہ سال 30دسمبر2020 کو اطہر مشتاق وانی ،زبیر احمد لون اور اعجاز احمد گنائی کو بلاجواز طورپر قتل کردیاتھا ۔

احسن اونتو نے سوگوارخاندانوںسے ملاقات میں نوجوانوںکے قتل میں ملوث اہلکاروںکے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ۔انہوں نے اس بہیمانہ واقعے کے خلاف سوشل ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی تنظیموں کو متحرک کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔شہید اطہر مشتاق وانی کے اہلخانہ سے ملاقات کے وقت صورتحال اس وقت انتہائی سنجیدہ ہو گئی جب اس کی پانچ سالہ  بہن  دوڑتے ہوئے احسن اونتو کے پاس پہنچی اور ان سے پوچھا کہ کیا وہ اس کے بھائی کو اپنے ساتھ لائے ہیں ۔شہید ہونے والے تینوں نوجوانوں کے اہلخانہ کاکہنا تھا کہ ان کے بیٹے کشمیر یونیورسٹی کے آئندہ امتحانات کیلئے رجسٹریشن کرانے کی غرض سے گھر سے گئے تھے ۔

متاثرہ خاندانوںکا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کی محفوظ واپسی کے منتظرتھے جب انہیں بھارتی فوجیوںکے ہاتھوں تین حریت پسندوں کے قتل کے بارے میں معلوم ہوا اور جب انہوںنے تینوں شہید ہونے والے نوجوانوںکی تصاویر نیوز چینلز پر دیکھی تو وہ انتہائی صدمہ سے دوچار ہو گئے کہ شہید ہونے والے نوجوان اور کوئی نہیں بلکہ ان کے بچے تھے جو گھر سے یونیورسٹی کیلئے نکلے تھے۔ وہ فوری طورپر جعلی مقابلے کے مقام پر پہنچے اور انہوںنے حکام سے اپنے بچوںکی لاشیں مانگی تاہم میتیں انکے حوالے نہیں کی گئیں۔

Recommended For You

About the Author: admin