پاکستان پرمسئلہ کشمیرپس پشت ڈال کر،بھارت سے تجارتی و ثقافتی تعلقات کی بحالی کا دباؤ ہے،پروفیسر خورشید احمد

اسلام آباد:جماعت اسلامی کے سابق نائب امیر پروفیسر خورشید احمد نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان پر کشمیر کے مسئلے کو پس پشت ڈال کر،بھارت سے تجارتی و ثقافتی راہ و رسم کے دروازے کھولنے کے لیے دباو ہے ، حکومت پاکستان اور پاکستان کی پارلیمنٹ کو دوٹوک الفاظ میں جموں وکشمیر بارے اپنے تاریخی موقف کا اعادہ کرنا چاہئے اور ایسی کسی مہم جوئی سے لاتعلقی کا واضح اعلان کرنا چاہئے اور وہ اعلان یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر، جموں و کشمیر کے عوام کی امنگوں کے مطابق اور اقوام متحدہ کی متفقہ قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے تحت حل کیا جانا ہے۔ کسی قسم کی ثالثی کی باتیں بھی کشمیر کے سلسلے میں پوری جدوجہد کو گہرے اندھے کنوئیں میں دھکیل دیں گی۔ بات چیت، رائے شماری کے انعقاد کے انتظامات کی تفصیلات پر ہونی چاہئے۔

جریدے ترجمان القران میں پروفیسر خورشید احمد نے مسلہ کشمیر کے سلسلہ میں تازہ پیش رفت پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جموں و کشمیر کا مسئلہ پاکستان کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ اس ضمن میں جو جدوجہد ہو رہی ہے وہ صرف جموں و کشمیر کے عوام اور ان کے مستقبل کی نہیں خود پاکستان کی بقا اور ترقی کی جنگ ہے۔ کشمیری بہنیں، بھائی، بچے اور نوجوان اس جدوجہد میں اپنی جان، مال، اور آبرو تک کی قربانی محض ایک خطہ زمین کے لئے نہیں دے رہے۔ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ یہ جدوجہد دینی، نظریاتی، تاریخی، معاشی اور تہذیبی بنیادیں رکھتی ہے۔ اس پس منظر میں اہل کشمیر بالکل واضح ذہن اور بڑی صاف سمت اپنے سامنے رکھتے ہیں۔

پروفیسر خورشید احمد نے لکھا ہے کہ کشمیر پر پاکستانی قوم کا موقف پہلے روز سے بڑا واضح اور نہایت مضبوط دلائل پر استوار ہے۔ تاہم، افسوسناک صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے کہ بعض اوقات، بعض حکومتوں یا بعض مقتدر افراد نے کمزوری دکھائی، مگر قوم نے ایسی کسی عاقبت نااندیشی کو قبول نہیں کیا۔ اس وقت عالمی ذرائع ابلاغ کے ذریعے اور خود پاکستان میں ایک نوعیت کی سرگرمیوں سے مسئلہ کشمیر پر جو اشارے مل رہے ہیں وہ سخت تشویشناک ہیں۔ ان پر بجاطور پر ہر سنجیدہ اور دوراندیش پاکستانی پریشان ہے۔

سیاسی قیادت موجودہ موقع کو کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے نتیجہ خیز بنا ئے، پروفیسر خورشید

انہوں نے لکھا کہ بعض عرب ممالک ، بھارت اور امریکا مل جل کر، پاکستان پر دباؤ ڈال کر یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے کو پس پشت ڈال کر، بھارت سے تجارتی و ثقافتی راہ و رسم کے دروازے کھولے جائیں۔ اسی ضمن میں ”قومی سلامتی” کے نام پر اشاروں، کنایوں میں تاریخ کو دفن کر کے یا تاریخ کو بھلا کر آگے بڑھنے کا غیرمنطقی اسلوب بیان اور قومی موقف سے ٹکراتا طرز تکلم بھی ہمارے ہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ طرز عمل خطرناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے جس پر حکومت پاکستان اور پاکستان کی پارلیمنٹ کو دوٹوک الفاظ میں اپنے تاریخی موقف کا اعادہ کرنا چاہئے اور ایسی کسی بھی مہم جوئی سے لاتعلقی کا واضح اعلان کرنا چاہئے اور وہ اعلان یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر، جموں و کشمیر کے عوام کی امنگوں کے مطابق اور اقوام متحدہ کی متفقہ قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے تحت حل کیا جانا ہے۔ کسی قسم کی ثالثی کی باتیں بھی پوری جدوجہد کو گہرے اندھے کنوئیں میں دھکیل دیں گی۔ بات چیت، رائے شماری کے انعقاد کے انتظامات کی تفصیلات پر ہونی چاہئے۔ یہ کہنا کہ ”بھارت اور چین، سرحدی تنازعات کے باوجود اتنے سو بلین ڈالر کی تجارت کرتے ہیں” ایک مضحکہ خیز دلیل ہے۔ اس مثال کا کوئی موازنہ، مسئلہ کشمیر پر پاک بھارت تعلقات سے نہیں کیا جا سکتا۔

پروفیسر خورشید احمد نے لکھا ہے کہ مختلف ملکوں کے سرحدی تنازعات اور کشمیر کے سوا کروڑ لوگوں کے مستقبل کے فیصلے کو ایک ترازو میں رکھنا نہایت سنگدلی اور تاریخ کے ساتھ سنگین کھیل کھیلنا ہے۔ یاد رکھیے جس نے تاریخ سے کھیل کھیلنے کی کوشش کی وہ عبرت کا نشان بنا ہے۔ وزارت، حکومت اور ملازمت چند برسوں کے بعد ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح شخصی کروفر کی حیثیت محض پرچھائیں کے برابر ہے مگر غلط فہمی میں مبتلا لوگوں کے فیصلوں کی سزا قوم مدتوں بھگتتی ہے اور تاریخ سے بے وفائی کے مرتکب لوگوں کو تاریخ کبھی کسی اچھے نام سے یاد نہیں کرتی۔

پروفیسر خورشید احمد کے مطابق ہونا یہ چاہئے کہ کشمیر کے مظلوم عوام کی ہمہ جہت سیاسی، اخلاقی اور سفارتی مدد کی جائے۔ ان سے ہر سطح پر تعاون کیا جائے۔ اس ضمن میں سید علی گیلانی نے بہت بروقت انتباہ کیا ہے۔ ہم پاکستان کے سیاسی، دینی، صحافتی اور حکومتی حلقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ قومی اداروں کو مجبور کریں کہ وہ کسی بھی مہم جوئی اور پس پردہ نامہ و پیام (بیک ڈور ڈپلومیسی) سے پرہیز کریں جو معاملہ ہو وہ کھلا ہو اور اس میں کشمیر کے عوام کا اعتماد شا مل ہو اور عالمی مسلمہ اصولوں کے مطابق ہو۔ اسی طرح پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کی تشکیل نو کی جائے۔ اس کے غیرسنجیدہ چیئرمین کو تبدیل کیا جائے۔ ذمہ دار، فرض شناس اور کسی مرد معقول کو کمیٹی کا سربراہ بنایا اور کمیٹی کو متحرک کیا جائے۔ عالمی سطح پر ایک مہم چلائی جائے جس میں خاص طور پر پانچ اگست 2019ء کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں کئے جانے والے مظالم اور آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کے بھارتی جرائم کو بے نقاب کیا جائے۔ اس حوالے سے حکومت پاکستان، پارلیمنٹ اور پاکستان کی مسلح افواج کو تاریخی موقف پر جم کر کھڑا ہونا چاہئے

Recommended For You

About the Author: admin