مقبوضہ کشمیر میں 32 ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی نشاندھی

 واشنگٹن:امریکی محکمہ خارجہ کی انسانی حقوق سے متعلق سالانہ رپورٹ میں جموں وکشمیر میں 32 ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی نشاندھی کی  ہے۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بارے  امریکی محکمہ خارجہ کی سالانہ رپورٹ2020 جاری کر دی گئی ہے۔

امریکی سرکاری رپورٹ میں جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی(جے کے سی سی ایس) کی ایک رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں بتایا گیا کہ سال کے پہلے 6 ماہ میں 107 کیسز میں 229 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ‘جے کے سی سی ایس نے جموں و کشمیر میں سال کے پہلے نصف حصے میں 32 ماورائے عدالت قتل کی بھی اطلاع دی ہے۔ امریکی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتی حکام نے قیدیوں کو محدود رسائی کی اجازت دی ہے جبکہ چند کے اہلخانہ نے دعوی کیا ہے کہ حکام نے مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت مزاحمتی علاقوں میں  قیدیوں تک  رشتہ داروں تک رسائی سے انکار کیا، اس رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بھارت کے قومی انسانی حقوق کمیشن(این ایچ آر سی) کو سال بھر انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے قیدیوں کی شکایات موصول ہوئی ہیں اور انہوں نے اس کی تحقیقات بھی کی ہیں، ‘تاہم سول سوسائٹی کے نمائندوں کا خیال ہے کہ جیل کے محافظوں یا عہدیداروں کی جانب سے بدلہ لیے جانے کے خوف سے بہت کم قیدیوں نے شکایات درج کرائیں۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نئی دہلی کی جانب سے اگست 2019 میں جموں و کشمیر کو خصوصی  حیثیت فراہم کرنے والی ایک خصوصی آئینی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد بھارتی حکام نے بغیر کسی مقدمے کے مقامی سیاستدانوں کو نظربند رکھنے کے لیے عوامی تحفظ کے قانون کا استعمال کیا جبکہ رہائی پانے والے افراد کو سیاسی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہونے کے معاہدے پر دستخط کرنے کا پابند کیا گیا۔

امریکی رپورٹ میں کہا گیا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) جو صرف مقبوضہ جموں و کشمیر میں لاگو ہوتا ہے، ‘حکام کو بغیر کسی الزام کے عدالت میں زیر جائزہ افراد کو اہلخانہ سے ملاقات کے بغیر دو سال تک نظربند کرنے کی اجازت دیتا ہے’۔

Recommended For You

About the Author: admin