مقبوضہ کشمیر میں عسکریت پسندوں نے نیابم کا استعمال کرنا شروع کردیا

نئی دہلی : بھارتی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں دہشت پھیلانے کے لئے عسکریت پسندوں نے الگ طرح کے بم کا استعمال کرنا شروع کیا ہے۔ اسے اسٹک بم کہا جاتا ہے۔ اسٹک بم میں میگنیٹ لگا ہوتا ہے۔ ایسے میں انہیں چلتی ہوئی گاڑیوں میں میگنیٹ کے ذریعہ چپکا کر دھماکہ کیا جاسکتا ہے۔

بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اسٹک بم عام آئی ای ڈی ہوتے ہیں، جو مٹھی کے سائز سے بڑے نہیں ہوتے۔ انہیں میگنیٹ، چپکانے والے اشیا کے ذریعہ گاڑیوں کی سائڈ میں یا پھر فیول ٹینک کے پاس آسانی سے چپکایا جاسکتا ہے۔ اس طرح چھوٹے سے دھماکے کو بڑے دھماکے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ   کے مطابق جموں وکشمیر میں سیکورٹی اہلکاروں کے ہاتھ عسکریت پسندوں کا نیا ہتھیار لگا ہے۔ اس بم میں میگنیٹ کا استعمال کرکے اسے کسی بھی گاڑی میں لگایا جاسکتا ہے۔ یہ وزن میں ہلکا اور پورٹیبل ہوتا ہے۔ چسپا کرنے کے بعد اسے ڈونیٹ کیا جاتا ہے، جس سے چسپا کرنے کے بعد اسے ڈونیٹ کیا جاتا ہے، جس سے چسپا کرنے والے کو خطرہ نہیں رہتا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ کچھ ماہ میں سیکورٹی اہلکاروں نے جموں وکشمیر کے الگ الگ علاقوں سے اسٹک بم ضبط کئے ہیں۔حالانکہ ابھی تک عسکریت پسند اس کے استعمال میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں، لیکن اس کی برآمدگی کے بعد سے سیکورٹی اہلکار زیادہ حیران ہوگئے ہیں۔ حملے کے لئے اس سے پہلے اسٹک بم کا استعمال 13 فروری، 2012 کو اسرائیلی سفارت خانہ کی ایک کار پر حملے کے لئے کیا گیا تھا۔ اس حملے کو ایک بائیک سوار نے انجام دیا تھا۔ اس نے  کار کی پیچھے کی طرف سبب ہوئے دھماکہ خیز اشیا کو چسپا کردیا تھا۔ اس حملے میں اسرائیلی سفیر کی اہلیہ اور ڈرائیور بری طرح زخمی ہوگئے تھے اور کار میں آگ لگ گئی تھی۔ سال 2010 اور 2012 میں تہران میں کچھ کو اسٹکی میگنٹک بم حملے کے ذریعہ ہدف کرنے کی کوشش کی گئی تھی

Recommended For You

About the Author: admin