مقبوضہ کشمیر ، کینسر بیماری میں تشویشناک حدتک اضافہ

سرینگر :مقبوضہ کشمیرمیں مہلک بیماری کینسر میں تشویشانات حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ریجنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کے اعداد وشمار کے مطابق 12سال میں 48117افراد کینسر بیماری کے شکار ہوئے ہیں جن میں سے 11310 سگریٹ اور تمباکو نوشی کی وجہ سے سرطان میں مبتلا ہوئے تھے  ان میں 5296 میں پھیپھڑوں، 4982 گلے،409مثانہ، 315ٹینٹوا، 56ہائیو فیرنیکس، 15منہ اور 10پرو فرنیکس کے کینسر میں مبتلا رہے۔

سکمز میں شعبہ ریڈنینٹ آنکولوجی کی سربراہ ڈاکٹر فر افروز نے ایک انٹرویو میںبتایا اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ سگریٹ نوشی کی وجہ سے پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے کہا  پیسے کی دستیابی سے نوجوان کافی تیزی سے سگریٹ نوشی کے عادی ہوتے ہیں اور وہ بری عادات میں مبتلا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے12سال کے دوران 5سے 34سال کی عمر کے 7237 نوجوان کینسر کے شکار ہوئے جن میں5سے 14سال تک  1443 جبکہ 15سے 34سال کے794 5نوجوان شامل ہیں۔

ڈاکٹر افروز نے کہا کہ گزشتہ 2سال سے اسپتال آنے والے مریضوں کی تعداد میں عالمی وبا اور سیاسی صورتحال کی وجہ سے کمی آئی ۔ شعبہ آنکولوجی کے پروفیسر نذیر احمد خان نے کہا کہ 48117 میں سے 10.93فیصد گلے کے کینسر اور 5.18 پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا رہے۔ انہوں نے کہا کہ ان میں 90فیصد سگریٹ اور 10فیصد تمباکو نوشی کی وجہ سے سرطان کے شکار ہوئے ۔ ڈاکٹر خان نے بتایا کشمیر میںسگریٹ کی ہرجگہ دستیابی اور نوجوان نسل کو ہر وقت پیسہ دستیاب رکھنا ، انہیں سگریٹ نوشی کی طرف لے جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد دیکھا دیکھی میں سگریٹ نوشی کرنے لگتی ہے اور اس صورتحال میں والدین کا ایک کلیدی رول بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں کینسر بیماری کو قابو کرنے کیلئے سگریٹ نوشی کے خلاف بنائے گئے قوانین کو سختی سے لاگو کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اب بھی عوامی مقامات پر کھلے عام سگریٹ نوشی ہورہی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 48117کینسر مریضوں میںسرینگر میں سب سے زیادہ 27.35فیصد ، اسلا م آباد(اننت ناگ) میں 15.26فیصد، بارہمولہ میں 14.59،بڈگام میں 10.72،پلوامہ 10.37،کلگام 6.92، کپوارہ 6.92، گاندربل 5.31اوربانڈی پورہ 4.86 سے تعلق رکھتے ہیں

Recommended For You

About the Author: admin