سید علی گیلانی کے قریبی ساتھی محمد اشرف صحرائی انتقال کر گئے

سری  نگر: قائد تحریک آزادی کشمیر سید علی گیلانی کے قریبی ساتھی تحریک حریت جموں کشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی انتقال کر گئے ہیں ۔ محمد اشرف صحرائی ان دنوں جموں کے اودھمپور جیل میں کالے قانون  پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت قید تھے  ۔ گذشتہ روز ان کی طبیعت زیادہ خراب ہونے پر گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموں( جی ایم سی) منتقل کیا گیا تھا۔ بدھ کے روز جی ایم سی ہسپتال میں آکسیجن لیول کم ہونے کی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا ۔ محمد اشرف صحرائی  اودھم پور جیل میں بیمار ہوگئے تھے تاہم انہیں علاج معالجے کی سہولت حاصل نہیں تھی  چنانچے، بیماری کے باعث محمد اشرف صحرائی کا وزن 13 کلو کم ہو گیا تھا  جبکہ وہ ایک آنکھ کی بینائی سے بھی محروم ہو چکے تھے۔   ان کا کووڈ 19 ٹیسٹ منفی آیا تھا تاہم آر ٹی پی سی آر کا ٹیسٹ ہوا تھا جس کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا تھا ۔ محمد اشرف صحرائی سرکردہ کشمیری حریت پسند رہنما تھے ۔  اشرف صحرائی 1944 میںء ٹکی پورہ  لولاب ضلع کپواڑہ میں پیدا ہوئے تھے ۔ زمانہ طالب علمی سے ہی وہ حریت پسندانہ سرگرمیوں کا حصہ تھے ۔ ٹکی پورہ سے پرائمری پاس کرنے کے بعد سوگام لولاب  ہائی سکول سے میٹرک کیا ۔   بعد ازاں وہ اترپردیش چلے گئے ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کی ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ 1959 ء میں جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر سے وابستہ ہو گئے تھے۔ 1960 میں جماعت کے رکن بنے ۔ 1965 ء میں حریت پسندانہ سرگرمیوں کی پاداش میں پہلی بار جیل گئے ۔   وہ ہفت روزہ ” اذان ” کے کالم نگار بھی رہے ۔اسلامی جمعیت طلبہ مقبوضہ کشمیر کے بانی  تھے ۔  وہ جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر  کے اہم رہنماوںمیں سے تھے ۔جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے سیکرٹری جنرل بھی رہے ۔   سید علی گیلانی  نے جب تحریک حریت جموں کشمیر کی بنیاد رکھی  تومحمد اشرف صحرائی جماعت کی قیادت کی اجازت سے  اس نئی جماعت میں شامل ہوئے تھے ۔ سید علی گیلانی جب بیماری  کے  باعث تحریک حریت کی چیئرمین شپ سے سبکدوش ہوئے تو اشرف صحرائی کو تحریک حریت کشمیر کا چیئرمین منتخب کیا گیا تھا ۔ اشرف صحرائی نے تین بیٹے اور دو بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں ۔   ان کا بیٹا جنید اشرف صحرائی 19 مئی 2020 ء کو بھارتی فوج سے جھڑپ میں شہید ہو گیا تھا ۔ جنید اشرف صحرائی حزب المجاہدین کے ڈویژنل کمانڈر تھے ۔ تحریک حریت کے کنوینئر برائے پاکستان غلام محمد صفی کے مطابق پولیس حکام نے اشرف صحرائی مرحوم کے خاندان سے رابطہ کر کے انہیں بتایا ہے کہ سری نگر اور کپواڑہ میں اشرف صحرائی کی تدفین نہیں ہو سکتی ۔   اشرف صحرائی کی وفات پر قائد تحریک آزادی کشمیر سید علی گیلانی نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ ادھر  ایک بیان میں جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے رہنما مولانا غلام نبی نوشہری نے اشرف صحرائی کی وفات کو تحریک آزادی کشمیر کا بڑا نقصان قرار دیا ہے ۔   انہوں نے کہا کہ صحرائی کی پوری زندگی کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد میں گزری ہے ۔ کشمیری عوام ان کی خدمات کو یاد رکھے گی ۔ مولانا نوشہری نے اشرف صحرائی کے بلند درجات کے لیے دعا بھی کی ۔ مزید پڑھیں: سید علی گیلانی کا نائب امیر جماعت اسلامی ہند نصرت علی کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار

Recommended For You

About the Author: admin