جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر کے خلاف بھارتی تحقیقات

نئی دہلی: بھارتی حکومت نے جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کے الزام میں تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے ۔بھارتی بدنام زمانہ ادارے این آئی اے نے  جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر کے امیر ڈاکٹر عبد الحمید فیاض سمیت جماعت کی اہم شخصیات ، جماعت کے اداروں ، جماعت کی ذیلی تنظیموں اور جماعت سے وابستہ بیرون ملک شخصیات کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق این آئی اے نے کہا ہے کہ  جماعت اسلامی  جموں وکشمیر  کو بھارتی  علاقہ نہیں مانتی بلکہ  جموں وکشمیر کو کو متنازعہ  علاقہ  قراردیتی ہے، عسکری تنظیم حزب المجاہدین کی معاونت کر رہی ہے ۔ جماعت اسلامی متحدہ جہاد کونسل کے ساتھ بھی رابطے میں ہے ۔ چنانچہ این آئی اے نے جماعت کی شخصیات ، جماعت کے اداروں اور بیرون ممالک میں جماعت کے نیٹ ورک کے خلاف تحقیقات کا کام شروع کر دیا ہے  ۔ 28 فروری 2019 ء کو غیر قانونی سرگرمیوں کے انسداد کے قانون یو اے پی اے ایکٹ کے تحت جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا ۔جبکہ جماعت کے امیر ڈاکٹر عبد الحمید فیاض سمیت جماعت کے 100 سے زائد رہنماؤں کو جیل میں ڈال دیا گیا تھا  متحدہ جہاد کونسل کی سربراہی سید صلاح الدین کر رہے ہیں ۔ جو جماعت اسلامی کے سابق رکن ہیں ۔ سید صلاح الدین جموں و کشمیر کو پاکستان میں شامل کرنے کی جدوجہد کرر ہے ہیں

Recommended For You

About the Author: admin