بھارتی جیلوں میں قید اسیران کشمیرکی زندگیوں کوشدید خطرات لاحق ہیں،سید علی گیلانی

سرینگر: قائد تحریک آزادی جموں وکشمیرسید علی گیلانی نے اپنے قریبی ساتھی محمد اشر ف صحرائی کی بھارتی حراست میں شہادت کے بعد بھارتی جیلوں میں قید کشمیریوں کی سلامتی کے حوالے سے تشویش ظاہر کرتے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کورونا  وباء کی آڑ میں بھارت کی مختلف جیلوں میں بند کشمیری قیدیوں  خاص طورپر قائدین کو نشانہ بنا کر انہیں راستہ سے ہٹانے کی ناپاک کوششیں شاید شروع ہوگئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اور اس حوالے سے  ایک بین الاقوامی سطح کی آگہی مہم چلانے کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ اقوا م متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو اپنی اس تشویش سے آگاہ کرکے ان سے اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کرسکیں،

عیدالفطر کے موقع پر اپنے پیغام میں سید علی گیلانی نے کہاکہ رمضان کا مقدس مہینہ اپنی تمام تر رحمتوں اوربرکتوں سمیت آج ہم سے رخصت ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ  سے دعا ہے کہ وہ ہماری تمام عبادات اور اعمال صالحہ کو شرف قبولیت بخشے اور اس ماہ مبارک میں ہونے والی روحانی، اخلاقی  اورنفسیاتی تربیت کے اثرات کوہماری زندگی کا ایک حصہ بنا کر سال بھر ہمارے ساتھ رکھے۔ آمین،

انہوں نے کہاکہ مبارکباد کے مستحق ہیں وہ سب اہل ایمان جنہیں یہ ماہ مبارک نصیب ہوا اور انہوں نے اس کی قدر اور اس کی حق ادائیگی کی اور بہت خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں اس مقدس مہینے کی مبارک ساعتیں اپنے سفر آخرت کیلئے نصیب ہوئیں ، جیسا کہ آپ جانتے ہی ہیں میرے انتہائی عزیز اور قریبی ساتھی محمد اشرف صحرائی صاحب بھی ہمیں ماہ مبارک کے آخری عشرے میں داغ مفارقت دے گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ صحرائی صاحب کو رمضان کی مبارک ساعتوں  کے ساتھ ساتھ شہادت کی موت بھی نصیب ہوئی۔ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشائ۔

سیدعلی گیلانی نے کہاکہ صحرائی صاحب نے اپنی زندگی اقامت دین کی جدوجہد اور وطن عزیز کی آزادی کیلئے وقف کی تھی اور اپنی آخری سانس تک وہا پنے اسی موقف پر چٹان کی طرح ڈٹے رہے۔ وہ نہ صرف خودراہ حق کے شہیدوں میں شامل ہوئے بلکہ اپنے ایک جواں سال جگر گوشے کو بھی انہوں نے اسی راہ میں قربان کردیا۔ اللہ تعالیٰ شہید صحرائی صاحب اور ان کے شہید فرزند کوغریقرحمت فرمائے اور بلند سے بلند تر درجات سے نوازے۔ آمین،

انہوں نے کہا کہ شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوکر اگرچہ صحرائی صاحب ایک ابدی زندگی پاگئے ہیں لیکن جس طرح اس کبرسنی میں انہیں قید میں ڈال کر علاج معالجہ کی سہولیات تک رسائی اور ضروری ادویات سے محروم رکھا گیا اور ایک منصوبہ بند طریقے پر ان کا حراستی قتل کیا گیا اسے ہم ہرگز بھول نہیں  سکتے۔  بھارتی حکومت کو اسکا حساب دینا ہوگا۔

قائد تحریک آزادی کشمیر نے کہا کہ صحرائی صاحب کی شہادت سے بھارتی جیلوں میں بندکشمیری قیدیوں کے حوالے سے ان تمام خدشات کو تقویت ملتی ہے جن کا اظہار ہم وقتاً فوقتاً کرتے رہے ہیں۔ کشمیری قیدیوں کی سلامتی کے تعلق سے اگرچہ بے اطمینانی  ہمیشہ سے ہی موجود رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاہم کورونا کی وباء کے بعد سے یہ بے اطمینانی اب انتہائی تشویش میں بدل چکی ہے اور کشمیری قیدیوں کے تئیں بھارتی حکمرانوں کے عمومی رویہ کو دیکھتے ہوئے اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ وباء کی آڑ میں بھارت کی مختلف جیلوں میں بند کشمیری قیدیوں  خاص طورپر قائدین کو نشانہ بنا کر انہیں راستہ سے ہٹانے کی ناپاک کوششیں شاید شروع ہوگئی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ یہ یقیناً انتہائی تشویشناک صورتحال ہے اور ہمیں اس ضمن میں نہ صرف بہت ہوشیار رہنے کی ضرورت  ہے بلکہ اس تعلق سے ایک بین الاقوامی سطح کی آگہی مہم چلانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ وبا کی موجودہ صورتحال میں اگرچہ عوامی احجتاج کا انعقاد ممکن نہیں  لیکن ہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے ایک ایسی عوامی تحریک برپا کرسکتے ہیں جس کے ذریعے  ہم فرداً فرداً اقوا متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو بذریعہ تحریر اپنی تشویش سے آگاہ کرکے ان سے اس معاملے میں مداخلت کی  درخواست کرسکتے ہیں ۔

سید علی گیلانی نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ آپ سب اس طرف توجہ کریں گے اور اپنا تھوڑا سا وقت دے کر اپنے اسیر بھائی بہنوں کو راحت پہنچانے کی کوشش ضرور کریں گے۔ باقی جن حالات سے ہم گزررہے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے ہم میں سے کسی کو بھی اس یاددہانی  کی چنداں ضرورت نہیں ہونی چاہیے کہ ہم عید انتہائی سادگی سے منائیں اور اس موقع پر ان تمام ضرورت مندوں اور محتاجوں  خاص طورپر اپنے شہداء کے لواحقین اور اپنے اسیرساتھیوں کے اہل خانہ کا بھی پورا پورا خیال رکھیں۔

انہوں نے کہاکہ ماہ رمضان  سے ہمیں دو سبق خاص طورپر ملتے ہیں۔ ایک اپنے مصائب اور مشکلات پر صبراور دوسرا اپنے  اردگرد رہنے والے لوگوں کے حالات اور مشکلات کا احساس  ۔ انہی کو  پونجی بنا کر آئیے ہم ایک بار پھر ایک نئے  عزم اورحوصلے کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کریں اور مایوسی کو اپنی راہ میں حائل نہ ہونے دیں۔ ہماری منزل ہمیں ضرور ملے گی۔ انشاء اللہ۔

Recommended For You

About the Author: admin