برطانوی پارلیمنٹ کے ممبران کا مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی طور پر آبادیاتی تبدیلیاں متعارف کرانے کے اقدا مات پر تشویش کا اظہار

لندن :برطانوی پارلیمنٹ کے ممبران نے ہندوستان کی طرف سے نہتے کشمیریوں پر تشدد، کالے قوانین کے تحت بڑی تعداد میں بے گناہ شہریوں کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے رہائی کا مطالبہ کیا جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی طور پر آبادیاتی تبدیلیاں متعارف کرانے کے اقدا مات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ  اب وقت آگیا ہے کہ مظلوم کشمیریوں کو انصاف ملے ،

برطانوی ممبران پارلیمنٹ،برطانیہ سے آل پارٹیز کشمیر پارلیمنٹری گروپ کی چیئرپرسن ایم پی ڈیبی ابراھم،برطانیہ کی شیڈو وزیر ایم پی بیرسٹر یاسمین قریشی، شریک چیئر کنزرویٹو فرینڈز آف کشمیر ایم پی پال برسٹو، شیڈو وزیر ایم پی ناز شاہ، شیڈو وزیر دفاع ایم پی خالد محمود، شریک چیئر کنزرویٹو فرینڈز آف کشمیر ایم پی جیمز ڈیلی اورکنوینر لیبر فرینڈز آف کشمیر لارڈ واجد خان جموں وکشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام ویڈیو لنک کے ذریعے بین الاقوامی کشمیر پار لیمانی کانفرنس سے خطاب کررہے تھے،

جاری تفصیلات کے مطابق  انٹر نیشنل کشمیر پارلیمنٹری کانفرنس میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال، کشمیر میں نہتے جوانوں کو ٹارگٹ کئے جانے،گرفتاریوں کے علاوہ بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو زیر بحث لایا گیا، کانفرنس میں برطانوی پارلیمنٹ آل پارٹیز کشمیر پارلیمنٹری گروپ کے نومنتخب عہدیداران نے مستقبل کے حوالے کشمیر پر خصوصی توجہ کے لئے لائحہ عمل پر مشاورت کی۔

اس موقع پر وفاقی وزیرسید فخر امام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک جانب کرونا وائرس کی سنگین صورتحال کا سامنا کر رہا ہے لیکن بدترین حالت میں مودی سرکار کی کشمیر میں ریاستی دہشت گردی تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔

جرات و بہادری کی مثال کشمیریوں نے جان کے نذرانے تو پیش کیے لیکن اپنے اصولی مؤقف حق خود ارادیت کے حصول پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ مودی نے 5اگست کا اقدام اٹھا کر حریت و آزادی کی آواز کو کچل دے گا لیکن کشمیریوں نے ثابت کیا کہ کوئی بھی کشمیریوں کے جذبے اور سر کو ختم نہیں سکتا۔ 73سال کے ظلم و بربریت کے باوجود کشمیری اپنی جدو جہد سے پیچھے نہیں ہٹے۔ نریندر مودی کی کشمیری پالیسی کو کشمیریوں نے مسترد کر دیا ہے۔

اس موقع پر انٹر نیشنل پارلیمنٹری کانفرنس سے لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر معظم احمد خان،سینیٹر ڈاکٹر زرقا تیمور، سینیٹر طلحہ محمود، برطانیہ سے آل پارٹیز کشمیر پارلیمنٹری گروپ کی چیئرپرسن ایم پی ڈیبی ابراھم،برطانیہ کی شیڈو وزیر ایم پی بیرسٹر یاسمین قریشی، شریک چیئر کنزرویٹو فرینڈز آف کشمیر ایم پی پال برسٹو،

شیڈو وزیر ایم پی ناز شاہ، شیڈو وزیر دفاع ایم پی خالد محمود،  شریک چیئر کنزرویٹو فرینڈز آف کشمیر ایم پی جیمز ڈیلی، کنوینر لیبر فرینڈز آف کشمیر لارڈ واجد خان کے علاوہ حریت کانفرنس آزادکشمیر چیپٹر کے رہنماء سید فیض نقشبندی، مقبوضہ کشمیر سے انٹر نیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس کے چیئرمین محمد احسن اونتو،

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہندوستانی حکومت کی طرف سے آرٹیکل 370 کے خاتمے اور اس سے متعلق دیگر ترامیم کے بعد سے ثقافتی اور آبادیاتی دہشت گردی کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹیرینز اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ جمہوریت میں پارلیمان ہی عوام کی آواز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کثیرالجہتی معاملے کے ضامن کے طور پر ہم نا صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر ہر طبقہ ہائے زندگی اور پروفیشنلز سے رابطوں کی کوشش کر رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ذریعہ بربریت کی جارہی ہے، اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے لئے یہ ایک آزمائشی کیس ہے۔

 لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر معظم احمد خان نے کہا کہ کشمیر میں انسانی حقوق مکمل معطل ہیں۔ بھارت نے کشمیریوں کی آزادی سلب کر رکھی ہے۔ پوری پاکستانی قوم ان کے ساتھ ہے،کشمیریوں کے جذبے کو سلام پیش کرنے باہر نکلے ہیں۔ اس موقع پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا تیمور، سینیٹر طلحہ محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے معاملہ پر ہم سب ایک ہیں اور کشمیریوں کی پشت پر کھڑے ہیں، کشمیری تنہا نہیں ہیں۔ حکومت پاکستان کو اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

کشمیری 18 ماہ سے لاک ڈاون اور آرمی حصار میں ہیں۔کشمیریوں کے لیے پیغام ہے کہ پوری پاکستانی قوم ان کے ساتھ ہے۔ کانفرنس سے  برطانیہ سے آل پارٹیز کشمیر پارلیمنٹری گروپ کی چیئرپرسن ایم پی ڈیبی ابراھم،برطانیہ کی شیڈو وزیر ایم پی بیرسٹر یاسمین قریشی، شریک چیئر کنزرویٹو فرینڈز آف کشمیر ایم پی پال برسٹو،

شیڈو وزیر ایم پی ناز شاہ، شیڈو وزیر دفاع ایم پی خالد محمود، شریک چیئر کنزرویٹو فرینڈز آف کشمیر ایم پی جیمز ڈیلی، کنوینر لیبر فرینڈز آف کشمیر لارڈ واجد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں تسلسل کے ساتھ پر تشدد کاروائیاں جاری ہیں اور بھارتی فورسز کی جانب سے نا صرف ٹارگٹ کلنگ بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہیں۔

برطانوی پارلیمنٹ کے ممبران نے ہندوستان کی طرف سے نہتے کشمیریوں پر تشدد، کالے قوانین کے تحت بڑی تعداد میں بے گناہ شہریوں کی گرفتاریوں کی مذمت کی اور رہائی کا مطالبہ کیا۔

برطانوی ممبران پارلیمنٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی طور پر آبادیاتی تبدیلیاں متعارف کرانے کے اقداما ت پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔کشمیری عوام پچھلے 70 سالوں سے پریشانی کا شکار ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ انہیں انصاف ملے اور بین الاقوامی سطح پر اس حوالے سے ہر سطح پر کام آواز بلند کریں گے

Recommended For You

About the Author: admin