برصغیر کی تاریخ کے بدترین اور سیاہ ترین دن

صرف تین دنوں میں تین لاکھ سے زائد مسلمان،قابض فورسز، آرایس ایس کے  دہشت گردوں کےہاتھوں شہید کئے گئے۔ برصغیر کی تاریخ  کے یہ بدترین اور سیاہ ترین دن ہیں،آر ایس ایس کی پشت پناہی والی نریندر مودی کی حکومت 2019سے اسی تاریخ کو دہراکر ریاست کے اکثریتی مسلم تشخص کو ختم کرنے کی کو ششوں میں سرگرم عمل ہے۔عالمی برادری خا موش تما شائی کب تک رہے گی۔ان خیالات کا اظہار حزب سربراہ اور متحدہ جہاد کونسل کے چیر مین سید صلاح الدین نے پریس کے نام جاری اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔انہوں نے کہا۔سید صلاح الدین نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جابرانہ فوجی قبضے کے بعدقابض فورسز اور آر ایس ایس سے وابستہ دہشت گردوں نے صرف تین دنوں (4,5,6نومبر1947) کو تین لاکھ سے زائد نہتے مسلمانوں کا بے دریغ قتلِ عام کیا، اُن کی جائیدادوں کو قبضے میں لے لیا،سینکڑوں مساجد کو شہید کیا اور بیس لاکھ سے زائد کو ہجرت کرنے پر مجبور کردیا۔ اس طرح عملاََ جموں شہر اور اس کے مضافاتی علاقوں کو مسلمانوں کے وجود سے پاک کیا گیا۔دنیا نے اس قتل عام کا تماشہ دیکھا اور افسوس اس بات کا ہے کہ  تب سے اب تک تماشہ ہی دیکھ رہی ہے لیکن کشمیری قوم نے اس ظلم و جبر کے باوجود کبھی بھی اس جبری غلامی اور فوجی تسلط کو قبول نہیں کیا بلکہ پچھلے 73 برسوں سے ایک منظم مزاحمتی تحریک چلائی جسے کچلنے کے لئے بھارتی سامراج نے فوجی قوت کا بے تحاشا استعمال کیا۔ بھارت کے غاصبانہ قبضے کے نتیجے میں آج تک 5 لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہوچکے ہیں، لاکھوں لوگ زخمی، ہزاروں خواتین بیوہ اور لاکھوں بچے یتیم ہوچکے ہیں۔5اگست 2019سے اب تک  نریندر مودی کی حکومت  ریاست کے اکثریتی مسلم تشخص کو ختم کرنے کی کو ششوں میں سرگرم عمل ہے اور ایسے اقدامات کررہی جن سے پوری ریاست کا وجود خطرے میں پڑ چکا ہے۔سید صلاح الدین نے عالمی برادری سے سوال کیا ہے کہ وہ کب تک محض تماشائی کی حیثیت سے یہ صورتحال دیکھے گی۔اجلاس میں شہدائے جموں کو زبردست خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے یس یقین کا اظہار کیا گیا کہ ان کا مقدس لہو ضائع نہیں ہوگا۔ان شا ء اللہ دیر سویر آزادی کا سورج کو ضرور طلوع  ہوگا۔ 

Recommended For You

About the Author: admin