آزادجموں وکشمیر قانون سازاسمبلی میں اشرف صحرائی کی بھارتی جیل میں قتل کی مزمتی قرارداد منظور

مظفرآباد:آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی نے تحریک حریت جموں وکشمیر کے چیرمین اشرف صحرائی  کی بھارتی جیل میں  قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان کے لواحقین کے ساتھ دلی ہمدروی کا اظہار کیا ہے۔آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ  اسمبلی کا اجلاس اشرف صحرائی  کی  آزادی کشمیر کے لئے دی گئی قربانیوں کو عقیدت  کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

سپیکر شاہ غلام قادر کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں بدھ کے روز قائد حزب اختلاف چوہدری محمد یاسین ، ممبران اسمبلی عبدالرشید ترابی اور نسیمہ خاتون کی قراردادیں ایوان نے منظور کر لیں ۔ قائد حزب اختلاف چوہدری محمد یاسین کی جانب سے پیش کردہ قراردادمیں کہا گیا کہ قانون سازاسمبلی آزادجموں وکشمیر کا یہ اجلاس مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی افواج کی ریاستی دہشت گردی ،

بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام اور تحریک حریت کے راہنماں کی گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ اجلاس سینئر حریت رہنما اشرف صحرائی کی بھارتی جیل میں علاج معالجہ کی عدم سہولت کے باعث قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان کے لواحقین کے ساتھ دلی ہمدروی کا اظہار کرتا ہے اور ان کی آزادی کشمیر کے لئے دی گئی قربانیوں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس ایوان کی رائے میں بھارتی حکومت نے کرونا وبا کی آڑ میں معصوم اور نہتے کشمیریوں پر ظلم وبربریت کا بازار گرم کررکھا ہے اورحریت قائدین سمیت ہزاروں کشمیریوں کو جیلوں میں پابند سلاسل رکھا گیا ہے ۔

ا ن جیلوں میں جہاں گنجائش سے زائد قیدیوں کو رکھا گیا ہے وہاں جیلوں میں صحت وصفائی اورخوراک کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ اور طبی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ ان جیلوں میں قید حریت قائدین اور ددیگر آزادی پسندوں کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام اور حریت قائدین کو علاج معالجہ کی بہتر سہولتیں مہیا کی جائیں اور جیلوں میں قید حریت قائدین اور بے گناہ کشمیریوں کو فی الفور رہا کیا جائے ۔ یہ ایوان اقوا م متحدہ، عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ حریت رہنماں اور ہزاروں بے گناہ کشمیریوں کی رہائی کے لئے بھارت پر دبا ڈالیں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو اپنا پیدائشی حق، حق خودارادیت دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

قائد حزب اختلاف چوہدری محمد یاسین کی جانب سے پیش کردہ ایک اور قرارداد میں کہاگیا کہ آزادجموں وکشمیر قانون سازاسمبلی کا یہ اجلاس فلسطین کے معصوم اورنہتے مسلمانوں پر جمع المبارک کے دن نماز کی ادائیگی کے وقت اسرائیل کی جانب سے کیئے جانے والے بیہمانہ تشدد اور بمباری کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 400سے زائد افراد کی شہادت اور سینکڑوں زخمی ہونے والے فلسطینیوں کے لواحقین سے دلی ہمدری کا اظہار کرتے ہوئے شہداکے لئے دعائے مغفرت کرتا ہے۔ایوان کی رائے میں قبلہ اول کا مسئلہ صرف فلسطین کے مسلمانوں کا نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا مسئلہ ہے اور اس مسئلہ کے حل کے لئے تمام مسلم ممالک کو مل کر اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لئے موثر آواز اٹھانا ہوگی تاکہ فلسطین میں بسنے والے لوگوں کی زندگیو ں کو بچایا جاسکے ۔

پوری امت مسلمہ کو مل کر 40ہزار سے زائد بے گھر ہونے والے افراد کی آبادکاری اور غزہ کی تعمیر نو کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔یہ اجلاس بین الاقوامی برادری بالخصوص اقوام متحدہ، او آئی سی سے توقع رکھتا ہے کہ وہ بے گناہ او رنہتے فلسطینیوں کے لئے موثر آواز بلند کرنے کے ساتھ اسرائیلی جارحیت کو بند کروانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے۔ نیز دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں فلسطینیوں کو ان کا حق خودارادیت دیئے بغیر اس خطہ میں امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے گا۔ممبر اسمبلی عبدالرشید ترابی کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا کہ آزادجموں وکشمیر قانون سازاسمبلی کا یہ اجلاس سینئر قائد حریت جناب محمد اشرف صحرائی کو بھارتی حکومت کی طرف سے علاج ومعالجہ کی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھتے ہوئے حراستی قتل کی شدید مذمت کرتا ہے اور اس امر پر تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ نریندر مودی کی حکومت ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت کشمیری حریت قیادت کو موت کے منہ میں دھکیلنے کی کوشش کررہی ہے۔

جس کے نتیجے میں بزرگ قائد حریت اور تحریک مزاحمت کی علامت سید علی شاہ گیلانی ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، ڈاکٹر عبدالحمیدفیاض اور میر واعظ عمر فاروق اور قائدین حریت اور ہزاروں حریت پسندوں کی زندگیاں شدید خطرات سے دوچار ہیں ۔ جناب اشرف صحرائی جیسے صف اول کے قائد کے ساتھ بھارتی استعمار ی رویے کی روشنی میں اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ باقی اسیران کے ساتھ کیا بھیانک سلوک روا رکھا جارہا ہوگا۔ اجلاس محمد اشرف صحرائی کی تحریک آزادی کے لئے تاریخی خدمات اور ان کی بے مثال استقامت پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتا ہے ۔جنہوں نے زندگی کا ایک ایک لمحہ تحریک آزادی کشمیر اور کشمیر کے مسلم تشخص کو برقرار رکھنے کے لئے اور نسل نو کو آزادی حریت کے قافلہ سے جوڑنے کے لئے جناب سید علی گیلانی کے دست راست کی حیثیت سے تاریخی کردار ادا کیا ۔ اس جدوجہد میں زندگی کا ایک طویل عرصہ بھارتی جیلوں اور عقوبت خانوں میں گزارا ۔

گھر بار چھوڑا اور اپنے بیٹے جنید صحرائی کی شہادت پیش کی اور بھارتی استعمار کی ترغیب اور دھونس کے ہر ہتکھنڈے کا نہایت ہی استقامت کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے ایک جری قائد کی حیثیت سے اسلاف کی یاد تازہ کی۔ اجلاس ان کے اقربااور لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہوئے ان کی بلندی درجات کے لئے دست بدعا ہے اور قافلہ حریت کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے انہیں یقین دلاتا ہے کہ شہداکے مشن کی تکمیل کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیاجائے گا اجلاس اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں ، او آئی سی اور عالمی برادر ی سے مطالبہ کرتاہے کہ وہ جناب محمد اشرف صحرائی کے حراستی قتل کا نوٹس لیتے ہوئے بھارتی حکومت کو باقی اسیران کی رہائی پر مجبور کرے جو بھارتی اور ریاستی جیلوں میں Covid-19کی لہر کی گرفت میں علاج معالجہ کی سہولتوں کے فقدان کا شکار ہیںاور حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتاہے کہ بھارتی سفاکانہ اقدمات کا اقوا م متحدہ میں اٹھایا جائے اور بھارت کو بے نقاب کیا جائے۔

اجلاس عین عید کے موقع پر شہید اشرف صحرائی کے خاندان سے تعزیت پرس کی مجلس کے دوران ان کے دو بیٹو ں کی گرفتاری کی بھی شدید مذمت کرتا ہے اور ایک سفاکانہ کارروائی سمجھتا ہے اور عالمی برادری کو ان انسانیت کش بھارتی اقدامات پر متوجہ کرتا ہے کہ وہ بھارتی ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین پامالی کا نوٹس لیتے ہوئے ان بھارتی ہتکھنڈوں کا تدارک کے اہتمام کرے۔اجلاس تحریک حریت کے اہم رہنما سید مظفر شاہ کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ان کے لواحقین اور قائدین حریت سے اظہار تعزیت کرتا ہے ۔

اجلاس سیدمظفرشاہ مرحوم کی تحریک آزادی کے حوالے سے مخلصانہ خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے لئے بلندی درجات کے لئے دعاگو ہے اور اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ ان کے مشن کی تکمیل کے لئے ریاست کا ہر فردکاروان حریت کے شانہ بشانہ رہے۔ عبدالرشید ترابی کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا کہ یہ اجلاس قبلہ اول مسجد اقصی میں لیل القدر کے موقع پر اسرائیلی قابض افواج کی طرف سے نہتے عبادت گزارو ں پر وحشیانہ تشدد ، شیلنگ اور غزہ میں نہتے شہریوں پر سفاکانہ بمباری کی شدید مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینی شہید وزخمی ہوئے، چالیس ہزار سے زائد بے گھر کردیئے گئے۔ ہسپتال، مساجد، اسکولز اور میڈیا ہاسز کو بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل ایک طرف کھلی بربریت سے فلسطینیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا ہے دوسری طرف نسلوں سے آباد فلسطینیوں کو اپنے گھروں اور جائیدادوں سے بیدخل کرتے ہوئے انتہا پسند جنونیوں کی آبادکاری کا اہتمام کررہا ہے جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے قطعا مغائر ہے۔

اجلاس کے نزدیک یہ امر خوش آئند ہے کہ جنرل اسمبلی ، سلامتی کونسل اور او آئی سی کی سطح پر اسرائیل کی بھرپور مذمت کی گئی۔ عالمی سطح پر بالخصوص یورپ اور امریکہ میں احتجاجی مظاہرے کیئے گئے۔ حکومت پاکستان نے بھی عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے پارلیمنٹ اور حکومت کی سطح پر اہل فلسطین سے بھرپور اظہار یکجہتی کیا۔ وزیر خارجہ پاکستان کی سربراہی میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے وفد نے جنرل اسمبلی میں اجتماعی نمائندگی کرتے ہوئے خوشگوار روایت قائم کی۔

اجلاس اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر متعلقہ فورمز سے توقع رکھتا ہے کہ اس دیرینہ انسانی مسئلے کے حل کے لئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں فلسطینیوں کے حق خودارادیت کو یقینی بنانے کا اہتمام کریں۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ مسجد اقصی سمیت فلسطینی مقبوضہ جات پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا اہتمام کیاجائے اور لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کے حق آباد کاری کو بھی یقینی بنایا جائے۔اجلاس اس موقع پرپاکستان ، ترکی، تیونس اور سوڈان کی حکومتو ںکے فلسطینیوں کے حق میں جرات مندانہ موقف کی تحسین کرتے ہوئے او آئی سی کے باقی ممبر ممالک بالخصوص عرب ممالک کی قیادت سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اسرائیل کے موجودہ مظالم اور گریٹر اسرائیل قائم کرنے کے تدارک کے لئے اسرائیل سے سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کرتے ہوئے اہل فلسطین کی بھرپور تائید وحمایت کریں۔ غزہ کی تعمیر نو میں ان کی امداد کریں اور فلسطین کے حوالے سے شاہ فیصل مرحوم کی مجاہدانہ پالیسی کا احیاکریں۔

اجلاس غزہ میں اسرائیلی مظالم کے باوجود تحریک مزاحمت ،فلسطین اور اس کی قیادت کی استقامت پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اہل غزہ اور فلسطین کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتا ہے اور انہیں یقین دلاتا ہے کہ قبلہ اول اور فلسطین کی آزادی صرف فلسطین کا مسئلہ ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ اور انسانیت کامسئلہ ہے اور اہل کشمیر اس برحق جدوجہد میں اہل فلسطین کے شانہ بشانہ ہیں۔ اجلاس توقع رکھتا ہے کہ وزیر خارجہ پاکستان مسلم وزرائے خارجہ کے ایک بڑے وفد کے ساتھ فلسطین کے ساتھ کشمیر پر بھارتی مظالم اجاگر کرنے کے لئے جنرل اسمبلی اوردیگر بین الاقوامی فورمز پر نمائندگی کرتے ہوئے کشمیریوں کی ترجمانی کرنے کا حق اداکریں گے۔ ممبراسمبلی نسیمہ خاتون کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا کہ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں 05اگست2019سے مسلسل فوجی محاصرے سے بگڑتی ہوئی سیاسی ومعاشی صورتحال، علاقے میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور بھارتی مذموم کوششوں سے ریاستی عوام کی زندگیوں کو انتہائی حد تک خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔

تقریبا دس لاکھ فوجی اہلکاروں کی موجودگی میں Covid-19وباکی آڑ میں عوام پر مسلسل ظلم وتشددسے شہریوں کی آزادانہ نقل وحرکت ایک خواب ہی بن کر رہ گئی ہے۔ حریت پسندوں کی مسلسل گرفتاریوں سے جیلوں کے اندر گنجائش سے زائد قیدیوں کو رکھنے سے صورتحال بھی خراب ہوچکی ہے اور اکثر اسیران مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں اور جیلوں کے اندر علاج معالجہ کی کوئی سہولت موجود نہیں۔ حال ہی میں 78سالہ تحریک حریت کے چیئرمین محمد اشرف خان صحرائی جیل میں علاج معالجہ کی سہولت نہ ملنے سے شہید ہوگئے۔ تہاڑ جیل میں مقید حریت قائدین اور مختلف جیلوں میں دیگر حریت پسندوں کو بھارتی ظالمانہ روش سے زندگیو ں کو خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔

بھارتی ہند توا سوچ ، انتقام گیری اور غیر قانونی قوانین سے ایک منصوبے کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی کررہا ہے اور حریت قائدین کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ لہذا اس سنگین صورتحال کے پیش نظر یہ ایوان اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھارتی ریاستی دہشت گردی کو روکنے کے لئے بھارت پر دبا ڈالے تاکہ بھارتی مظالم کو فوری طور پر روکا جاسکے۔یہ ایوان حریت قائدین یامحمدسین ملک، شبیر احمد شاہ، مسرت عالم، آسیہ اندرابی ودیگر قائدین اور تحریک پسندوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہے ۔

بھارت کشمیر کے اندر اسرائیلی طرز کی کارروائیوں اور غیرقانونی قوانین سے آبادی کا تناسب تبدیل کرکے مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے اور مختلف بہانوں اور ظلم وتشدد سے عوام کو تحریک آزادی سے کنارہ کش ہونے کے لئے دبا ڈال رہا ہے۔ بھارت پر واضح ہونا چاھیئے کہ تشدد سے کشمیریوں کو اپنے پیدائشی حق، حق خودارادیت سے دور نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اوچھے ہتکھنڈوں سے تحریک آزادی کو دبایا جاسکتا ہے۔ کشمیر کا واحد حل بین الاقوامی سطح پر منظورشدہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں ہی ممکن ہے۔ لہذا کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینا خطے کے امن اور ترقی کے لئے لازم ہے۔

Recommended For You

About the Author: admin