ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کررہا ہے، ڈاکٹر خالد محمود خان

اسلام آباد: جماعت اسلامی آزادجموں وکشمیر کے امیر ڈاکٹر خالد محمود خان نے کہا ہے کہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کررہا ہے نریندرمودی کشمیریوں کو مسلمان ہونے کی سزا دے رہا ہے او آئی سی کا کشمیر رابطہ گروپ فوری طور پر مقبوضہ کشمیر کا دورہ کر کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا خود جائزہ لے اگر ہندوستان او آئی سی کے کشمیر رابطہ گروپ کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت نہیں دیتا تو او آئی سی کے رکن ممالک ہندوستان کا فوری طور پر سیاسی،سفارتی اور معاشی بائیکاٹ کا اعلان کریں ،ہندوستان کی معیشت کا 70فیصد انحصار اسلامی ممالک پر ہے اگر اسلامی ممالک ہندوستان کے ساتھ معاشی بائیکاٹ کریں تو مسئلہ کشمیر دنوںمیں حل ہوسکتا ہے ۔

ان خیالات کاانہوں وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہاکہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے دنیا کو گمراہ کررہا ہے ہندوستان من پسند لوگوں کو مقبوضہ کشمیر کے منتخب کردہ علاقوں کا دورہ کروا کر دنیا کو باور کروانے کی سازش کررہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات نارمل ہیں حالانکہ گزشتہ 19ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں مکمل لاک ڈائون ہے انسانی حقوق کے کسی فرد کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ریلیف ادارہ مقبوضہ کشمیر جاسکتا ہے مقبوضہ کشمیر کے اندر انٹرنیٹ سروس معطل ہے کاروبار زندگی مفلوج ہے قابض ہندوستانی افواج کالے قوانین کی آڑ میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑارہی ہے ایسے میں عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مداخلت کرے اور کشمیریوں کو آزادی دلوانے میں اپنا کردا ر ادا کرے انہوں نے کہاکہ مودی کے 5اگست 2019ء کے اقدامات عالمی برادری کو جگانے کے لیے کافی تھے لیکن عالمی برادری خاموشی کا روزہ توڑنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔

انہوں نے کہاکہ کشمیریوں نے اللہ کے بھروسے پر اپنی آزادی کی جدوجہد شروع کررکھی ہے وہ آزادی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کشمیرکی آزادی اور ریاست کی خوشحالی کا ایجنڈا لے کر آگے بڑھ رہی ہے بیس کیمپ کے حقیقی کردار کی بحالی کے لیے کوشاں آزادکشمیر میں روایتی پارٹیاں اور قیادت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہوئی ہیں کرپٹ قیادت اور فرسودہ نظام کے ہوتے ہوئے ہمارے مسائل حل نہیں ہوسکتے ہمارے مسائل کا حل قرآن وسنت کے نظام میں مضمر ہے جماعت اسلامی قرآن وسنت کے نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کررہی ہے ۔

Recommended For You

About the Author: admin