ہمارے حوصلہ پست نہیں ہوئے،والدہ مقبول بٹ شہید

سری نگر:جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی محمد مقبول بٹ شہید کی والدہ شالی بیگم نے کہا ہے کہ ہمارے حوصلہ پست نہیں  ہوئے۔سخت پابندیوں کے باوجود اس دفعہ بھی  میں نے اپنے بیٹے مقبول کی برسی منائی۔ہمارے گھر کے تمام راستو ں کو سیل کر دیا گیا تھا پھر بھی لوگ آئے اور تعزیتی مجلس بھی ہوئی۔

کے پی آئی  کے مطابق محمد مقبول بٹ شہید کا آبائی گاوں کپواڑہ ترہگام  ہے۔ان کی والدہ بھی ترہگام میں مقیم ہے۔اس دفعہ مقبول بٹ کے آبائی گھر ترہگام کو جانے والے تمام راستو ں پر ناکہ بندی کی گئی تھی اور کسی کو بھی وہا ں جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ مقبول بٹ کی برسی پر ترہگام میں ایک تعزیتی مجلس کا انعقاد کیا گیا جس کا اہتمام ان کی معمر والد ہ نے کیا تھا۔

 مقبول بٹ نے بھارتی جیل کیسے توڑی تھی؟

معمر والدہ شالی بیگم نے لوگوں سے کہا کہ  میرا چھو ٹا بیٹا ظہور احمد بٹ پابند سلاسل ہے لیکن اس کے با جود بھی ہمارے حوصلہ پست نہیں ہیں ۔ ہم نے روایت کے مطابق ظہور کی غیر موجودگی میں محمد مقبول بٹ کی برسی منائی اور اس میں کوئی کمی با قی نہیں رکھی بس اگر کمی تھی تو میں میرے چھو ٹے بیٹے ظہور بٹ کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ دن بھر قرآن خوانی ہوئی جس کے دوران محمد مقبول بٹ کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے گھر کے تمام راستو ں کو سیل گیا گیا تھا لیکن اس کے با وجود بھی ہم نے مقبول بٹ کی برسی منائی۔

یاد رہے بھارت  نے  محمد مقبول بٹ کو 11فروری انیس سوچوراسی کو نئی دلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی تھی۔محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو  دونوں شہدا کا جسد خاکی  لواحقین کے حوالے نہیں کیا گیا ۔محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گوروکے جسد خاکی جیل کے احاطے میں دفن ہیں۔

Recommended For You

About the Author: admin