کشمیریوں نے بھارت کا یوم جمہوریہ یوم سیاہ کے طورپر منایا،دنیا بھر میں کشمیریوں کے احتجاجی مظاہرے وریلیاں

رینگر: کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے بھارت کا یوم جمہوریہ یوم سیاہ کے طور پر منا یا تاکہ عالمی برادری پر دباؤ بڑھایا جاسکے کہ وہ بھار ت کی طرف سے کشمیریوں کو انکا حق خودارادیت دینے سے مسلسل انکار کانوٹس لے ۔

اس موقع پر نیا بھر میں کشمیریوں نے احتجاجی مظاہرے کئے اورریلیاں نکالی ،مقبوضہ کشمیر احتجاجی ہڑتال سے روزمرہ زندگی مفلوج ہوکے رہ گئی،سرینگر سمیت وادی کے دیگر مقامات پر سیکورٹی ہائی الرٹ سے کرفیوجیسی صورتحال رہی جبکہ سونہ وار کی طرف جانے والے راستے کو مکمل سیل کیا گیا،سخت سیکورٹی کے باوجود کئی مقامات پر مجاہدین نے بھارتی فوج پرحملے بھی کئے، یوم سیاہ منانے کی کال کل جماعتی حریت کانفرنس سمیت حریت رہنمائوں اورتنظیموں نے دی تھی ۔

اس موقع پرمقبوضہ جموں وکشمیرمیں مکمل ہڑتال رہی ،تمام کاروباری سرگرمیاں اور ٹرانسپورٹ بند رہا ،ادھر پورے مقبوضہ علاقے بالخصوص کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم سمیت 26جنوری کی سرکاری تقریبات کے مقامات کے گرد بھارت مخالف مظاہروں کو روکنے کیلئے بھارتی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی ۔

سرینگر میں تین حصاروں پر مشتمل سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے اور پورے مقبوضہ علاقے میں جگہ جگہ قائم کی گئی چوکیوں پر لوگوں کو روک کر انکی تلاشیاں لی گئیں، سونہ وار کرکٹ اسٹیڈیم سرینگر اور مولانا آزاد سٹیڈیم جموں کے گردو نواح میں خفیہ کیمرے نصب کرنے کے ساتھ ساتھ پولیس اور سیکورٹی فورسز کے خصوصی دستوں کو تعینات کردیا گیا تھا۔

مولانا آزاد اسٹیڈیم جموں میں ایک مختصر تقریب میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پریڈ پر سلامی لی اور ترنگا لہرا یا جبکہ وادی میں سونہ کرکٹ اسٹیڈیم میں لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان نے سلامی لی ،واضح رہے عمومی طور پر سرینگر میں 15اگست اور 26جنوری کی تقریبات بخشی سٹیڈیم میں ہوا کرتی تھیں لیکن مذکورہ سٹیڈیم میں کئی برسوں سے تعمیراتی کام ہورہے ہیں اسی لئے سونہ وار کرکٹ سٹیڈیم میں تقریبات کو منعقد کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ۔

سرینگر اسٹیڈیم کے گرد ونواح میں سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے تھے۔ اسٹیڈیم کو 2روز قبل ہی فورسز کے حوالے کیا گیا ہے۔ اسٹیڈیم کے گردونواح علاقوں میں بھی فورسز اور پولیس کے علاوہ دیگرسیکورٹی ایجنسیوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا اور پولیس تھانہ رام منشی باغ سے لیکر ٹی آر سی تک کا راستہ خار دار تاروں سے بندکردیاگیا ۔ اسٹیڈیم کی طرف جانے والے تمام راستوں کو دوپہر سے ہی لوہے کی سلاخوں سے بند کردیا گیا اور جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرکے ان راستوں پر موبائیل بنکر رکھے گئے ۔

پولیس نے2روز قبل ہی اتھوجن بائی پاس سے گاڑیوں کی نقل و حرکت کو بائی پاس سے منتقل کیا،جبکہ بٹوارہ،پاندریٹھن،سونہ وار ،شیوپورہ،ڈلگیٹ راجباغ،کرسو،اندرانگر،اقبال کالونی سمیت دیگر علاقوں پر فورسز کے پہرے بٹھا دیئے گئے۔ سیول سیکریٹریٹ، اولڈ سیکریٹریٹ، فلائی ائور، اسمبلی ہاوس کے ساتھ ساتھ دیگر اہم سرکاری و غیر سرکاری تنصیبات کو ایک روز قبل ہی فورسز نے اپنی تحویل میں لے لیا اور پیر3بجے کے بعد سی آر پی ایف کی بھاری نفری حساس علاقوں میں تعینات رکھی گئی ۔

جموں میں بھی سخت سیکورٹی انتظامات کئے گئے تھے،اور کئی روز قبل ہی ہوٹلوں اور دیگر جگہوں کی تلاشیاں لینے کے علاوہ خفیہ کیمروں کو بھی متحرک کیا گیا۔سرینگر سے آنے والی گاڑیوں کی باریک بینی سے تلاشیاں لی جا رہی ہے،جبکہ مشتبہ افراد پر سخت نگاہ رکھی جارہی ہے۔ بھارتی پولیس نے گذشتہ شام حریت رہنما جاوید احمد میر کوسرینگر سے گرفتار کرلیا ۔ بھارتی پولیس نے جاوید احمدمیر کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ سرینگر میں اپنے دفتر میں ایک اجلاس میں شریک تھے۔

پولیس نے سرینگر اوردیگر علاقوں میں حریت رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائش گاہوں پر چھاپے بھی مارے۔چھاپوں اور کریک ڈاؤنز کا مقصد مقبوضہ علاقے میں بھارت کے یوم جمہوریہ کی تقریبات کا خوش اسلوبی سے انعقاد ہے ،جموں میں بھی26جنوری کی مناسبت سے اہم تنصیبات اور عمارتوں پر سیکورٹی کی تعداد میں اضافہ کیا گیا تھا،سخت ترین سیکورٹی کی وجہ سرینگر فوجی چھاونی کا منظرپیش کررہا تھا اس کے باوجود کشمیری مجاہدین نے کئی مقامات پر بھارتی قابض فوج پر حملے کئے ،اسلامک فرنٹ سے وابستہ مجاہدین نے ان حملوں میں کئی فوجیوں کے ہلاک اور زخمی کرنے کا دعوی کیا ہے فرنٹ کے ترجمان نے بتایا کہ سرینگر کے کئی مقامات پر قابض فوج کو ان حملوں میں بھاری جانی ومالی نقصان سے دوچار کیا گیا۔

علاوہ ازیںیاری پورہ کولگام میں سیکورٹی فورسز پر گرینیڈ پھینکا گیا تاہم کوئی نصان نہیں ہوا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ شام دیر گئے قریب 8بجے یاری پورہ کولگام میں سیکورٹی فورسز کیمپ پر مشتبہ جنگجوئوں نے ایک رائفل گرینیڈ داغا جو نشانہ چوک کر سڑک پر زوردار دھماکہ سے پھٹ گیا۔ اس موقعہ پر گرودونواح کی آبادی سہم کر رہ گئی۔ تاہم دھماکے سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بعد میں آس پاس علاقوں میں فورسز نے گشت کیا اور کچھ مکانوں کی تلاشی لی، آزادکشمیر ، پاکستان اور دنیا بھر کے دارلحکومتوںمیں بھارت مخالف مظاہرے اور ریلیاں منعقد کی گئیں جبکہ یاداشتیں پیش کی گئیں جن میں بھارت اوراقوام متحدہ پر زوردیا گیا ہے کہ وہ کشمیرکے بارے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمدکرانے میں اپنا وعدہ پورا کریں

Recommended For You

About the Author: admin