مقدمہ کشمیر

حامد میر


اگر شریعت نے زمانے کو بُرا بھلا کہنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں آج 2019ء کو بتا دیتا کہ تو کتنا منحوس اور معیوب تھا۔مگر کیا کئجیے بقول اقبال”تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا،یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی“2019ء رخصت تو ہوا مگر میری شہ رگ کشمیر کو بھی کاٹ گیا۔ویسے سچی اور فطری حقیقت یہی ہے کہ زمانہ فی نفسہ بُرا نہیں ہوتا بلکہ انسان کے کرتوت،غفلت،خودغرضی،عیش کوشی،تن آسانی،منصب طلبی،لالچ،حرص،طمع اور اس طرح کے دوسرے قبیح اور منفی عوامل جب انسان کو ذلت،ناکامی اور بے بسی کی اتھاہ گہری کھائی میں پھینک دیتی ہیں تو پھر یہ خود غرض اور دھوکے باز انسان اپنی اصلاح کرنے کی بجائے زمانے کو دوشی قرار دینے کی سازش اور ڈھونھگ رچا کر اپنی ناعاقبت اندیشی اور نامرادی پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کرتا ہے!!!!
کشمیر کے حوالے سے بھی سارے اسٹیک ہولڈرز اسی راگ کو بڑی آسانی سے الاپنے میں مصروف ہیں۔کوئی مشرف کو کوستا ہے تو کوئی واجپائی کی کویتائیں یاد کرتا ہے کسی کو مودی سے شکوہ ہے تو کوئی عمران خان کو کشمیر بیچنے کا مجرم مانتا ہے۔کسی کو حریت کانفرنس کے دھڑوں کی شکل میں کشمیر کے نام پر ذاتی منفعت حاصل کرنے والے دِکھتے ہیں اور کوئی دوسرے معززین سے بھی شکوہ اور جوابِشکوہ کرکے اقبال کی روح کو ایصالِ ثواب پہنچانے میں مگن اور مصروف ہے۔اس ساری جادوگری نے سامری کی روح کو بھی ورطہ حیرت میں مبتلا کیا ہوا ہے اور مورخ بیچارہ بھی کنفیوژن کا شکار ہو چکا ہے کہ وہ کس کس کے ہاتھوں پر معصوم کشمیریوں کا لہو تلاش کرے۔کسے مجرم لکھے اور کسے پارسائی کی سند عطا فرمائے۔
آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ جب نبی کریمﷺ کے خلاف مشرکین مکہ نے داروالندوہ میں ایک مشاورتی اور سازشی اجلاس منعقد کیا تو تمام احوال کا جائزہ لینے کے بعد نعوذ بااللہ آپﷺ کے قتل کا منصوبہ تیار کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ جملہ قبائل میں سے ایک ایک فرد یا چند چند افراد مل کر ایک جتھے کی صورت میں آپﷺ پر بیک وقت حملہ کرکے آپ ﷺ کو خاک بدہن قتل کریں گے اور اس طرح قریش والوں کے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہو گا کہ وہ آپ ﷺ کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے اتنے سارے قبائل سے لڑ سکیں۔میں جب اپنی شہ رگ کشمیر پر نظر دوڑاتا ہوں اور وہاں کے قتلِ عام کو دیکھتا ہوں تو مجھے پاکستان سے کشمیر تک مفاد پرست اسٹیک ہولڈرز کی ایک جدید”دارالندوہ“ نظر آتی ہے جو مشرکین مکہ کے اُس قبیح اور خوفناک کردار کی علمبردار بن چکی ہے۔یہ سامری جادوگر اور ذاتی منفعت کا گورکھ دھندا کرنے والے سارے اسٹیک ہولڈرز کسی نہ کسی عنوان کے تحت اسی بھیانک کردار کو نبھا رہے ہیں۔
اگر پاکستان میری شہ رگ مقبوضہ کشمیر کو بھارتی پلید سامراج سے آزادی دلانے کا واقعی متمنی اور وکیل ہے تو پھر کیوں نہیں وہ آزاد کشمیر،گلگت اور بلتستان میں استصواب رائے کا اہتمام کر کے دنیا بشمول بھارت میں ایک بھونچال بپا کرتا!کیوں وہ بھارت سے کشمیر کی تئیں کئے جانے والے سارے دو طرفہ معاہدات کی منسوخی کا اعلان نہیں کرتا!کیوں بھارت کے ساتھ سیاسی،سفارتی اور تجارتی روابط کو میری شہ رگ کی آزادی اور امن کے ساتھ مشروط نہیں کرتا!اور کیوں تقریروں،احتجاجوں،ریلیوں،پریس کانفرنسوں اور سیمیناروں کی غیر موثر دنیا سے نکل کر کوئی عملی اقدام نہیں کرتا!!!
کیوں نہیں حریت کانفرنس کی تکون اپنا قبلہ درست کرتی،کیوں نہیں ببانگ دہل کہتی یا کم از کم با ادب اعتراف ہی کرتی کہ پاکستان نے ہمیں بیچ منجدھار لا کر تنہا چھوڑ دیا ہے۔کیوں دوسرے معززین ڈنکے کی چوٹ پر اعلان نہیں کرتے کہ ہم اپنے خطے آزاد کشمیر منتقل ہو کر آزادی کی اس جنگ کو اپنی حکمت عملی اور سوچ کے ساتھ لڑیں گے۔کیوں سارے فریق پاکستان کی بے وفائی کا مرثیہ پڑھتے بھی نہیں تھکتے اور عین اُسی لمحے جب کوئی آفیشل اسٹیٹمنٹ دینے کی اجازت ملتی ہے تو پاکستان کے حکمرانوں اور مقتدر قوتوں کی کشمیر کے تئیں اُن کی پالیسی کے حوالے سے تعریفوں میں زمین و آسمان کے قلاوے ملا دیتے ہیں۔مطلب صاف ہے وجہ دو ہی ہو سکتی ہیں۔بزدلی،مصلحت پسندی یا منفعت پر کاری ضرب لگنے کا واضح اندیشہ
اب آئیے حل کی طرف۔راستے ہمیشہ دو ہی ہوتے ہیں۔ایک عزیمت اور دوسرا رخصت۔ایک بزدلی اور دوسرا بہادری۔ایک توکل علی اللہ اور دوسرا مصلحت کا راستہ۔تاریخ اُٹھا کر دیکھ لئجیے پہلا راستہ ہی نجات،کامیابی،کامرانی اور حصولِ منزل کے لئے ہمیشہ کار آمد رہا ہے جبکہ دوسرا راستہ ناکامی،نامرادی،شکست اور دنیا و آخرت کی رسوائی کا موجب بنا ہے۔اگر تاریخی حوالے شہ سُرخیوں کی طرح اتنے واضح اور نوشتہ دیوار ہیں تو پھر ہمیں دانشمندی،دوراندیشی اوروفاداری کا کونسا ایسا طاقتور ”جن“ چمٹ چکا ہے جس نے ہمیں اپاہج،بانجھ،مفلوج اور منجمند کر دیا ہے اور ہاں اگر عقلِ سلیم کا کوئی ایسا زاویہ بھی ہے جس کی سمجھ ہم جیسے کند ذہن قلمکاروں کو نہیں ہے تو خدا را خلوتوں میں ہی سہی مگر ہمارے اوپر اس ٹائٹانک کے ڈوبنے کا یہ راز ضرور افشاء کریں تاکہ ہم بھی عشروں سے گِرے اس کرب سے نجات حاصل کریں جس کرب نے ہمیں زندہ لاشوں اور قبرستانوں کی وحشت سے دوچار کئے رکھا ہے۔

Recommended For You

About the Author: admin