سرینگر جعلی مقابلے میں شہید ہونے والے کشمیری نوجوانوں کے اہلخانہ کا پلوامہ میں احتجاجی مظاہرہ

گزشتہ ماہ سرینگر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک جعلی مقابلے میں شہید ہونے والے کشمیری نوجوانوں کے اہلخانہ نے ضلع پلوامہ میں اپنے آبائی گاوں بیلو میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور شہید ہونے والے نوجوانوں کی میتیں ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کی.اطہر مشتاق کے والد مشتاق احمد وانی نے مظاہرے کی قیادت کی جس میں مقامی لوگوں نے حصہ لیا۔انہوں نے رواں ہفتے ایک ویڈیو پیغام میں عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ احتجاج کیلئے گاوں میں انکے بیٹے کی خالی قبر پر اکٹھے ہوں۔بھارتی فوج نے 30 دسمبر کو سرینگر کے نواحی علاقے میں ایک جعلی مقابلے میں 16 سالہ اطہر وانی کو دو اور کشمیری نوجوانوں کے ہمراہ شہید کردیا تھا۔مشتاق وانی نے کہاکہ انہوں نے لوگوں کی مشکلات کے پیش نظر بڑے مظاہرے کی کال واپس لے لی تھی کیونکہ بھارتی فورسز نے گاﺅں تک جانے والے راستوں پر فوجی گاڑیاں کھڑی کر انہیں بند کردیا تھا اور اب صرف اہلخانہ اور مقامی لوگ ہی احتجاج کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ فورسز نے میڈیا کے نمائندوں کو بھی علاقے تک رسائی نہیں دی۔مشتاق وانی نے قابض انتظامیہ سے اپنے بیٹے کی میت ایک ہفتے میں واپس کرنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ مجبورا لال چوک سرینگر میں احتجاجی دھرنا دیں گے۔آئی جی پولیس وجے کمار نے گزشتہ روز کہا تھا کہ شہید ہونے والے نوجوانوں کی میتوں کو انکے اہل خانہ کو واپس نہیں کیا جائے گا۔

Recommended For You

About the Author: admin