سامبورہ معرکہ آرائی کی تفصیلی رپورٹ

پلوامہ کے علاقے سامبورہ میں مجاہدین اور بھارتی سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم آرائی سوموار کی صبح تقریباً 10 بجے ختم ہوئی۔دورانِ شب ہی دو مجاہدین شہید جبکہ دو بھارتی فوجی شدید زخمی ہوئے تھے۔تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک مجاہد صبح کے وقت شہید ہوا کیونکہ پیر کی صبح سویرے فائرنگ کا تبادلہ دوبارہ شروع ہوا تھا۔شہید مجاہدین میں پلوامہ کا سب سے مطلوب عسکری کمانڈر بھی شامل ہے۔جس کی شناخت بطور کمانڈر اعجاز احمد ریشی ساکن سامبورہ اور دوسرے مجاہد کی شناخت بطور سجاد احمد صوفی ساکن پڈگام پورہ ہوئی ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق جس وقت بھارتی سکیورٹی فورسز نے کمار محلہ میں تلاشی آپریشن اتوار کو قریباً 3 بجے شام شروع کیا تو محلے میں دونوں مجاہدین ایک گلی سے گزر رہے تھے۔اسی دوران مجاہدین اور قابض فوج کے درمیان آمنا سامنا ہوا اور مجاہدین نے سڑک کے نزدیک قابض فورسز پر گرینیڈ پھینکا جس سے دو فوجی اہلکار شدید زخمی ہوئے اور مجاہدین دھان کے قریبی کھیتوں میں مورچہ زن ہو گئے،جہاں فورسز اہلکاروں کیساتھ جھڑپ شروع ہوئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق دھان کے کھیتوں میں ہی دونوں جانبازوں کی شہادت ہوئی،حالانکہ بشیر احمد نامی ایک شخص کے مکان کو بھی گولیاں لگیں اور شیشے چکنا چور ہوئے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلح تصادم آرائی قریب 20 کنال دھان کی اراضی میں ہوئی اور دھان کی فصل مکمل طور پر تباہ ہوئی۔دورانِ شب دھان کی فصل کی کھیتی میں ہی روشنی کا انتظام کیا گیا تھا۔لوگوں کا کہنا ہے کہ دو درجن سے زائد افراد کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا جن کو شدید مارپیٹ کا نشانہ بھی بنایا گیا۔دکانداروں کا کہنا ہے کہ انکے دکانوں کے تالے توڑے گئے تھے اور سامان تہس نہس کیا گیا تھا۔ دونوں مجاہدین کی لاشوں کو تدفین کیلئے شیری بارہمولہ پہنچایا گیا۔

Recommended For You

About the Author: admin