جنگ آزادی کشمیر۔۔۔۔۔۔۔۔یحییٰ اختر

جدوجہد آزادی کشمیر نئے محاذوں پر شروع ہو گئی ہے اور یقیناً یہ آخری مرحلہ ہے ۔انڈیا کے ظلم و ستم کا ہر وار ناکام اور ہر ہتھیار کند ہوچکاہے ۔انڈیا کے لئے پریشانی کی بات یہ ہے کہ ہر محاذ پر اسے پسپائی کاسامنا کرنا پڑتا۔

مقبوضہ کشمیر کے المناک حالات ہوں یا امریکہ کے بڑے بڑے شہر ۔ یورپ کے انتہائی جنوب میں پرتگال اور سپین ہو یا دوسرے سرے پربرطانیہ ہو، ہر جگہ ظالم کو آزادی کے متوالوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔یورپ میں ڈس انفو لیب سکینڈل کی ذلت اٹھانے کے بعد انڈیا نے اب برطانیہ میں بھی جھک مار دی ہے ۔

یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر تحریک کشمیر برطانیہ نے اس بار پہلے سے بھی زیادہ موثر آن لائن کانفرنسز کیں۔ایک کانفرنس میں تو چالیس سے زیادہ ارکان پارلیمنٹ نے شرکت کی اور مسئلہ کشمیر پر بڑے بیباک اور دوٹوک انداز میں انڈیا کے ظلم و ستم کی مذمت کی۔ معزز ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ انڈیا کی طرف سے ان پردباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ اس سلسلے میں خاموشی اختیار کر لیں ۔

اس موقع پرانہوں نے اس بات کا عہد کیا کہ جب تک کشمیریوں کو ان کا حق آزادی مل نہیں جاتا وہ خاموش نہیں ہوں گے۔ یہ بات انڈیا کو بہت زیادہ چب گئی ۔ دہلی سےچلائے جانے والے ایک آن لائن اخبار میں برطانیہ میں دو تھنک ٹینکس کے ساتھ کام کرنے والے ایک شخص پال سٹاٹ سے ایک مضمون لکھا کر پارلیمانی کانفرنس کے آرگنائزر تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی کے خلاف پراپیگنڈا مہم شروع کردی۔ ظاہر ہے ہمیشہ کی طرح اس موقع پر بھی پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی تھی۔اس تکلیف کے پیش نظر پاکستان کے خلاف بھی ہرزہ سرائی کی گئی ۔

جہالت کے پجاریوں نے معزز ارکان پارلیمنٹ کو بھی نہ بخشا ۔تہذیب و تعلیم سے ناآشنا جنگجو کیا جانیں کہ برطانوی ارکان پارلیمنٹ کی عزت و تکریم کیا ہے ۔ بیچارے انڈیا کا اس بھونڈی حرکت پر معلوم نہیں ان کرائے کے لکھاڑیوں نے کتنا خرچہ کرایا۔ لیکن تحریک کشمیر برطانیہ نے فوری طور پر تاریخی، سیاسی اور علمی لحاظ سے اس کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دے۔ارکان پارلیمنٹ نے سخت ترین الفاظ میں اس کا نوٹس لیا ۔

تحریک کشمیر برطانیہ نے اسے انڈیا کی طرف سے برطانوی سرزمین پر ایک دہشت گردی کی کارروائی قراردے کر برطانوی حکومت سے انڈیا کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کردیا ۔اور فوری طور پر نام نہاد اخبار کو قانونی نوٹس بھیج دیا جس کا ابھی تک جواب موصول نہیں ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کا تاثر پوری دنیا نے محسوس کیا ۔مہذب دنیا کے ہر شخص اور ادارے نے کشمیریوں کا درد محسوس کیا ۔

اہل علم نے اپنے قلم کے زور سے اس نئے محاذ پر پہرہ دیا ۔ لیکن اپنوں کی نادانیاں بھی ایک حقیقت ہیں ۔ 14 فروری کو روزنامہ جنگ میں چھپنے والے مضمون کو پڑھ کر ہم تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے ۔

وجاہت علی خان نامی اس لکھاری کے ‘کشمیریوں کا شکوہ’ کے عنوان سے جو پلندہ لکھا اس پرہم ہاتھ جوڑ کر ان سے درخواست کرتے ہیں کہ آینده سے آپ کشمیریوں کو ساری زندگی کے لئے بخش دیں تو آپ کی مہربانی ہو گی۔آپ نے لکھنے کی مشق کرنی ہےتو کوئی اور مضوع لے لیں مسئلہ کشمیر کو معاف کر دیں۔ ہاں اصل حیرت جنگ کے معیار صحافت پر ہے جنہوں نے ایسے کھچڑی نما بےسروپا مضمون کو شائع کردیا۔صحافتی تحقیق کو جانیں دیں ان صاحب کے پاس بنیادی معلومات بھی نہیں اور جنگ نے یہ مضمون شائع کردیا۔ ادھر ادھر کی مار کے ان صاحب نے بھی انڈین پروپیگنڈا مشین کی طرح معزز ارکان پارلیمنٹ کی اتنی بڑی اور موثرکانفرنس کو اس شان جہالت سے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ۔

موصوف نےبرطانیہ کے 650 ارکان پارلیمنٹ کے ہاوس آف کامنز والے روم کا ذکر کیا ہے۔ اول تو یہ سارا جملہ ہی بتا رہا ہے کہ سرکار کوہاؤس آف کامنز کی پوری معلومات ہی نہیں ہیں ۔ اور پھر ہم آپ کو چیلنج کرتے ہیں کہ پورے ویسٹ منسٹر پیلس میں کوئی ایک بھی کمرہ ایسا نہیں جس میں پورے 650 ارکان پارلیمنٹ بیٹھ سکیں۔آپ نےاتنے غلط دعوے کیے ہیں وہاں ایک ہی سچ ثابت کردوتو بڑی بات ہو گی۔ ۔

جو باتیں اس مضمون میں جدوجہد آزادی کے حوالے سےبرطانیہ میں ہماری کوششوں سے وابستہ کی گئی ہیں وہ سراسر جھوٹ کا پلندہ ہیں ۔ ‘ان گنت تنظیمیں ” اور ”شور مچا کر” جیسی لغو زبان استعمال کر کےصحافتی بددیانتی کا ثبوت دیا گیا ہے ۔ یہ صاحب لندن میں رہنے کا دعویٰ کررہے ہیں تو انہیں مشورہ دیں کہ ذرا آنکھیں کھول کر رہیں ۔ اور اگر جان بوجھ کر غلط بیانی کی ہے تو پھر یہ آخری ہونی چاہیئے ۔پوری پاکستانی قوم اور کشمیریوں کی اتنی بڑی کوشش کو یہ صاحب یکسر بےوقعت کر کے اپنی بےوقت کی راگنی بجانا شروع ہو جاتے ہیں۔

ہم صحافی حضرات سے دور اندیشی اور بالغ نظری کی توقع رکھتے ہیں لیکن جن لوگوں کو اتنے بڑے واقعات نظر نہ آئیں۔انہیں صحافت کے کس کھاتے میں ڈالا جائے۔ جنگ کے ایڈیٹوریل سے گذارش ہے کہ بہت زیادہ محنت نہ کریں صرف حقائق لکھ دیا کریں لیکن صاحب حقایق جھٹلانے اور واقعات کو غلط رنگ دینا چھوڑ دیں ۔ توقع ہے کہ اس بات کا فوری ازالہ کیا جائے گا اور آینده اس طرح کا غیر پیشہ ورانہ رویہ نہیں دہرایا جائے گا۔اس سلسلے میں پوری تحقیق کی جائے کہ اس کوشش کا بھی کہیں انڈین لابی سے تعلق تو نہیں ۔اور اگر ایسا ہے تو قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

نوٹ : یہ راقم کی اپنی ذاتی راہے ہے اس سے ادارے کا متقفق ہونا ضروری نہیں ہے

Recommended For You

About the Author: admin